فورسز کے شبانہ چھاپے، آبادیوں کو محصور کرنے اور گھر گھر تلاشی لینا ظالمانہ اقدام : جماعت اسلامی

فورسز کے شبانہ چھاپے، آبادیوں کو محصور کرنے اور گھر گھر تلاشی لینا ظالمانہ اقدام : جماعت اسلامی

Kashmir News Observer (KNO)

مدثر احمد کی نعش لواحقین کو سپرد نہ کرنا بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی سرینگر// اولڈ برزلہ کا مدثر احمد وانی جو سال 2016ء سے گھر سے غائب تھا اور حال ہی میں ایل او سی کے نزدیک اس کی لاش پائی گئی اور اس کے لواحقین نے اُس کی لاش کو فوٹو سے پہچانا اور متعلقہ حکام کو اس کی لاش واپس دینے کا باضابطہ مطالبہ کیالیکن سرکاری حکام قانونی ضوابط کے مطابق لاش واپس کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں جو کہ بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مدثر احمد کے آخری رسومات کو دینی احکامات کے مطابق انجام دینا، لواحقین کا حق ہے اور کسی بھی سرکاری حاکم کو گھر والوں کو اس حق کی انجام دہی سے روکنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی اختیار نہیں ہے۔ جماعت اسلامی متعلقہ حکام پر زور دیتی ہے کہ وہ کسی تاخیر کے بغیر مدثر احمد کی نعش کو گھر والوں کے حوالے کریں۔ ادھر پلوامہ اور شوپیان کے مختلف دیہات میں بھارتی فورسز کے شبانہ چھاپوں اور آبادیوں کو محصور کرکے گھر گھر تلاشی لینے اور بے گناہ نوجوانوں کی بڑے پیمانے کی گرفتاری کے خلاف جماعت اسلامی زبردست احتجاج کرتے ہوئے اس ظالمانہ سلسلہ کو فوری طور پر روک دینے اور تمام گرفتار شدہ نوجوانوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتی ہے۔ رہموہ اور کندلن نامی دیہات میں ان بے لگام فورسز اہلکاروں نے نہتے عوام کو اپنی بربریت کا نشانہ بناتے ہوئے کئی مکانات اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کے علاوہ بہت سے لوگوں کو جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا اور کئی نوجوانوں کی ہڈی پسلی ایک کردی۔ یہ اہلکار کسی قانونی یا اخلاقی ضابطے کے پابند نہیں ہیں اور اُن کی یہاں کے عوام پر ہر قسم کا ظلم ڈھانے کی کھلی چھوٹ ملی ہے یہاں تک کہ ظلم کے خلاف زبان کھولنے والوں پر اندھا دھند فائرنگ کرنے اور طاقت کے بے جا استعمال کی بھی مکمل اجازت ہے جو بھارت کے اعلیٰ فوجی حکام کے بیانات سے بھی عیاں ہے۔ جماعت اسلامی‘ عوام پر ہورہے بے انتہا ظلم پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اقوام عالم سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس سرکاری تشدد کو رکوانے کی خاطر مو ¿ثر اقدامات کریں۔ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کو اس سلسلے میں اپنا منصبی رول موثر اور نمایاں طریقے پر ادا کرنے کی اپیل کی جاتی ہے۔