بھارتی حکومت ریاستی عوام کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ نہ کرے : جماعت اسلامی

بھارتی حکومت ریاستی عوام کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ نہ کرے : جماعت اسلامی

Kashmir News Observer (KNO)

35Aکے خلاف دائر درخواست کی سماعت 31اگست کے بجائے 27اگست کو ہی ہوگی۔ عام لوگوں نے جب یہ خبر سنی تو حیرت سے اُن کے چہروں کی رنگت ہی بدل گئی اور جوں ہی کئی مقامات پر لوگوں نے اس صورتحال کے خلاف پرامن مظاہرے کرنے کی کوشش کی تو یہاں تعینات بھارتی فورسز نے حسب معمول طاقت کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد، پلوامہ، کولگام اور شوپیان میں درجنوں بے گناہ افراد کو گولیوں اور پیلٹ سے زخمی کردیا جن میں کئی ایک نازک حالت میں مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔اس کے علاوہ کئی ضلعی تعلیمی اداروں پر ان بے لگام فورسز نے دھاوا بول کر طلبا کی جم کر پٹائی کرکے اپنے بے رحمانہ پن کا کھلا مظاہرہ کیا۔ کولگام کالج میں طلبا کے ساتھ ساتھ طالبات اور تدریسی عملے کو بھی اپنی بربریت کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کئی طلبا زخمی ہوگئے اور ایک خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوگیا۔ اسی طرح اسلام آباد میں ایک مسجد کی زبردست توڑ پھوڑ کرکے اس کے تقدس کو پامال کرنے کے علاوہ اس کو کافی نقصان بھی پہنچایا گیا۔یہ حرکت مسلمانوں کے دینی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔بھارتی سپریم کورٹ میں اگر چہ اصلی کیس زیر سماعت ہے لیکن بی جے پی کے ایک لیڈر مسٹر اشونی کمار کے ذریعے اس دفعہ کے خلاف ایک اور درخواست دائر کروائی گئی تاکہ جموںوکشمیر کے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچے اور بھارتی فورسز کو ان کے خلاف انتقامی کارروائی کرنے کا موقعہ فراہم ہو۔ یہاں کے عوام کا غصہ دیکھ کر بعد میں اس درخواست پر سماعت کو ہی ملتوی کروایا گیا۔ بھارتی حکومت یہاں کے عوام کے جذبات سے کھلواڑ کرنے کے بجائے کسی تاخیر کے بغیر عوام کے بنیادی جائز مطالبے کی طرف دھیان دے ،اسی میں برصغیر میں رہنے والے 2ارب کے قریب عوام کی بھلائی ہے۔ جماعت اسلامی دونوں ہمسایہ ممالک کے سربراہوں پر زور دیتی ہے کہ کشمیر کے حقیقی عوامی نمائندوں سے مل کر دیرینہ مسئلہ کشمیر کا ایک ایسا حل تلاش کرنے کی خاطر کوششوں کا آغاز کریں جو جموں وکشمیر میں بسنے والے عوام کی خواہشات اور اُمنگوں کا آئینہ دار ہو۔دفعہ 370اور 35Aکے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے جموں وکشمیر کی آبادی کے تناسب کو بدلنے کی کوئی بھی کوشش یہاں کے عوامی جذبات کو پاﺅں تلے روندنے کے مترادف ہوگا جس کو یہاں کے عوام کے لیے کسی بھی صورت میں برداشت کرنا محال ہے۔ بہتری اس میں ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ میں زیر سماعت اس قسم کی تمام درخواستوں کو منسوخ کروایا جائے اور ریاستی عوام کو حاصل خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوششوں سے آئندہ پرہیز کیا جائے۔ یہ خصوصی پوزیشن دراصل یہاں کے عوام کو اُس وقت تک حاصل رہے گی جب تک کہ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ اپنی اُمنگوں کے مطابق کرنے کا انہیں آزادانہ موقعہ فراہم نہیں کیا جاتا جس کا اُن کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر بار بار وعدہ کیا گیا ہے۔